×
Blog
افلاطون کیا کہتا ہے۔۔۔؟


افلاطون کیا کہتا ہے۔۔۔؟
  14 May 2021
Read more Like this Post.
جو شخص تجربات سے دوچار نہیں ہوتا وہ دھکے کھاتا ہے۔ تجربات تادیب کے لئے اور لیل و نہار کی گردش نصیحت و عبرت کے لئے کافی ہیں۔ بادشاہ ایک بڑے دریا کی طرح ہوتا ہے جس سے چھوٹی چھوٹی بہت سے نہریں پھوٹتی ہیں۔ اگر اس دریا کا پانی میٹھا ہوتا ہے تو ان کا پانی بھی میٹھا ہوتا ہے اور اگر دریا کا پانی نمکین ہوتا ہے تو نہروں کا بھی نمکین ہوتا ہے
کسی دانشور سے سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ جس شخص میں ادب کی مجلسیں
 جمع ہوجاتی ہیں تو وہ غصہ سے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ عقل معاملات میں استقلال پیدا کردیتی ہے یا عقل مندی مستقل مزاجی کا نام ہے۔ چنانچہ اس کا پھل سلامتی ہے، بادشاہ چلتے ہوئے بازار کی طرح ہے جس میں سامان وغیرہ لگایا جاتا ہے، سلطان شہر میں سوار ہونے کی طرح ہے جس سے لوگ مرعوب ہوجاتے ہیں بلکہ وہ اپنی سواری کی وجہ سے زیادہ بارعب ہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے مقصد کو پہچان لیتا ہے تو اس پر خرچ کرنا آسان ہوجاتا ہے ، جو نگاہ مطلق العنان کردیتا ہے وہ دیر افسوس کرتا ہے جس کی امیدیں لمبی ہوتی ہیں اس کا انجام برا ہوتا ہے۔ جس کی زبان میں لگام نہیں ہوتی وہ اپنے آپ کو مقید کردیتا ہے جو اپنے عیوب کو دور کردیتا ہے اسے حاسدیں رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جو مصائب برداشت کرتا ہے وہ اندرون تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔ جو اچھی چیزوں سے محبت کرتا ہے وہ محارم سے بچ جاتا ہے جس سے لوگ حسن ظن رکھتے ہیں اس کو دیر تک دیکھتے ہیں۔ اب شراف کا قائم مقام ہے جتنا کریم آدمی سدھارتا ہے اتنا ہی بدبخت کو معاف کردینے سے بگڑ جاتا ہے ۔ جو عقل مندوں کے مشورہ سے کام لیتا ہے وہ درستگی کو پالیتا ہے۔ جو کسی سے بامید ہوتا ہے مرعوب رہتا ہے۔ جو کسی کام کو انجام نہیں دے پاتا وہ عیب نکالتا ہے۔ جو خصومت میں مبالغہ کرتا ہے وہ گناہ کرتا ہے اور جو قطع و برید سے کام لیتا ہے وہ ظلم کرتا ہے اور نہ خدا سے خوف کرسکتا ہے جس نے امانت کی بے انتہا حفاظت میں خصومت کی، اس نے مقصد کے خلاف کام کیا۔ جس نے اپنے کو ایسے کام کے لئے پیش کیا جس کو ہ نہیں کرسکتا تو دوسروں کی نظروں میں گرجاتا ہے۔ جو اچھے کام کرتا ہے وہ چھاجاتا ہے قیادت کرتا ہے اور جس نے قیادت کی اس نے اپنے مقصد کو پالیا۔ یتیموں اور بیواوں پر ظلم کرنا فقر و فاقہ کی کنجی ہے۔ سینے کی اصلاح سوائے وسیع الظرف آدمی کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔ ذرا ذرا سی بات میں گھٹیا آدمی منع کرتا ہے اور چھوٹے آدمی ہی فخر کا شکار ہوتے ہیں اور بخیل آدمی تعصب کرتا ہے۔ مددگار بھائی کے لئے سوائے ضرورت مند آدمی کے اور کوئی بھی پانی کی حاجت کی طرح انصاف کا خواہاں نہیں ہوتا۔ مددگار شریف آدمی سے جب مہربانی کی امید کیا جاتی ہے تو وہ نرمی کا برتاو کرتا ہے۔ بد بخت آدمی سے جب مہربانی کا برتاو کیا جاتا ہے تو وہ اور سخت ہوجاتا ہے۔ اللہ کے نزدیک زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو انتقامی قدرت کے باوجود عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں ۔ بے وقوف وہ ہے جو اپنے سے کمزوروں پر ظلم کرتا ہو۔ جو اپنے نفس کے لئے واعظ نہیں ہوتا اس کے مواعظ سودمند نہیں ہوتے۔ جو تقدیر الٰہی پر راضی رہتا ہے وہ بلاء و مصائب پر صبر کرتا ہے۔ جو اپنی دنیا کو آباد کرتا ہے گویا وہ اپنے مال کو ضائع کرتا ہے جو آخرت کو سنوارتا ہے وہ آرزووں کو حاصل کرلیتا ہے۔ قناعت، تنگدست کو باعزت بناتی ہے۔ صدقہ کرنا مالدار کے لئے خزانہ ہے۔ جس نے اپنے عیب کو صیغہ راز میں رکھا اس کا حشر برا ہوتا ہے۔ بد بخت وہ ہے جو اپنے لئے بخل کرکے دوسرے کے لئے جمع کرتا ہے ۔ بھلائی بہترین پونجی ہے۔ احسان بہترین عادت ہے۔ جو لوگوں سے مستغنی ہوجاتا ہے وہ افلاس سے محفوظ رہتا ہے۔ جو اپنی حاجات خدائے مشکل کشاکے سامنے پیش کرتا ہے وہ اپنے معاملات میں غالب رہتا ہے۔ جو اپنی حاجات لوگوں سے بیان کرتا ہے وہ اپنی عزت کو پامال کرتا ہے جو اپنے بھائی کے بھید کو افشاء کردیتاہے اللہ تعالٰی اس کے برابر رازوں کو افشاء کردیتے ہیں۔ جاہل کی نافرمانی سے سلامت رہوگے ۔ عقل مند کی اطاعت سے فائدہ میں رہوگے۔ احمق کے پاس ادب کی زیادتی ایسا ہی ہے جیسے ایلوے کی جڑوں میں خوشگوار پانی ڈال دیا جائے تو سوائے کڑواہٹ کے اور کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ انجیل مقدس میں آیا ہے جیسے کروگے ویسا بدلہ دیاجائے گا۔ جس پیمانے سے تم تولتے ہو اسی کے مطابق تولا جائے گا۔ بعض خلفائ اپنے خاندانی بھائیوں سے خوشی کی لہر اس طرح دوڑایا کرتے تھے کہ وہ ان کے سامنے ایک ہزار درہموں کی تھیلی ڈال دیتے اور یہ کہتے تھے کہ تم لوگ اسے رکھو، پھر چھوٹے بچوں کو بھیجا کرتے تھے اور انہیں خرچ کرنے کی مکمل رعایت دیتے تھے اور یوں کہتے کہ تم کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار ہے۔

 بعض دانشوروں نے کہا ہے کہ عقل مند وہ ہے جس نے مال کے ذریعہ سے اپنی حفاظت کی اور دین کو نفس سے بچایا۔ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی وہ ہے جس نے علم و فضل کے ساتھ لوگوں میں زندگی گزاری ۔ بہترین لذت بھائیوں کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ ادب کا ذخیرہ نیک کام کرنا ہے۔ نیکی کرنا عقلمند کا مال غنیمت ہے ۔ بھلائی خیرخواہوں کا عطر ہے ۔ جو اپنا مال خرچ کرتا ہے تو اس کی مثال دی جاتی ہے۔ جو اپنے پیسوں کو کمتر سمجھتا ہے اس کی عزت کی جاتی ہے۔ نیک کام کرنے والا گرتا نہیں ہے اگر گرتا بھی ہے تو کوئی سہارا دینے والا مل جاتا ہے۔ انصاف پرور بادشاہ بارش اور اونٹ سے بہتر ہے۔ ظالم بادشاہ دائمی فتنہ سے بہتر ہے۔ بادشاہوں کی فضیلت نوازنے میں ان کی شرافت معاف کرنے میں ان کی عزت عدل گستری میں ہے۔ عدل نظام عالم کے چلانے کا نام ہے۔

Aflatoon Aristotle
 Zohaib Jozvi
0 14 May 2021
Read Latest Post.
Read other post.